تعارف – جامعہ رضویہ ضیاء العلوم

سنگ بنیاد

15 شعبان معظم 1383ھ  شب برات کی بابرکت شام۔ اس بابرکت رات کو حضرت مولانا سید ضیاء الدین شاہ چشتی شلطانپوری (رحمه اللہ) اورحضرت مولانا فرید الدین چشتی (رحمه اللہ) نے دیگر علماء و مشائخ کی موجودگی میں جامعہ کی بنیاد رکھی۔

جامعہ مسجد(فضل دین) المعروف سبزی منڈی راولپنڈی فیوض و برکات کا مرکز بنی۔ 

24 شوال 1383ھ کو باقاعدہ اسباق کا آغاز ہوا 

جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کو اسلامی تعلیمی اداروں میں ایک امتیازی حیثیت حاصل ہوئی۔ بڑے بڑے علماء و مشائخ جیسےشیخ الجامعہ حضرت علامہ مولانا محب النبی ھاشمی رحمہ اللہ ، استاذ العلماء حضرت مولانا سید غلام محی الدین شاہ صاحب رحمه اللہ اور حضور مصلح امت علامہ مولانا پیر سید حسین الدین شاہ صاحب (دامت برکاته) اس ادارے کے اساتذہ کرام میں شامل ہوئے۔

آج بھی یہ ادارہ حضرت علامہ مولانا پیر سید حسین الدین شاہ صاحب (دامت برکاتہم العالیہ) کی زیر نگرانی تعلیمی خدمات نہایت ہی احسن انداز میں انجام دے رہا ہے۔۔

جامعہ کے نام کی تاریخ

جامعہ رضویہ ضیاء العلوم کے نام کی بھی ایک تاریخ ہے
قیام جامعہ کی دوسری میٹنگ جو 6 ستمبر 1963ء میں منعقد ہوئی اس میں مختلف نام تجویز کیے گئے۔ ان میں سے چند درج ذیل ہیں:۔

  • دار العلوم ضیاء المدارس
  • جامعہ رضویہ ضیاء المدارس
  • جامعہ حمیدیہ رضویہ
  • دار العلوم ضیاء الاسلام
  • جامعہ رضویہ ضیاء القرآن

لغوی معنی

جامعہ رضویہ: ایسا ادارہ جو اللہ تعالی کی انوار و تجلیات کا مرکز ہے

ضیاء العلوم: علم کی روشنی پھیلانے والا ادارہ

اصطلاحی معنی

جامعہ: اعلی تعلیم کا ادارہ جسے آج کل کی جدید اصطلاح میں ”یونی ورسٹی“ کہا جاتا ھے ۔

رضویہ: اعلی حضرت احمد رضا خانٌ علیہ رحمۃ الرحمن سے نسبت و تعلق

ضیاء العلوم: حضرت فقیہ العصر علامہ پیر سید ضیاء الدین شاہ صاحب سلطانپوری رحمۃ اللہ سے دینی و روحانی نسبتوں کا مجموعہ